13 جون 2026 - 17:46
مآخذ: ابنا
لبنان حکومت اور صہیونی ریاست کے درمیان مذاکرات ہمارے لیے بے معنی ہیں:حزب اللہ

حزب اللہ کے ایک سینئر رکن حسن عزالدین نے لبنان حکومت کی جانب سے صہیونی ریاست کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مذاکرات حزب اللہ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور ان کے نتائج کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کے ایک سینئر رکن حسن عزالدین نے لبنان حکومت کی جانب سے صہیونی ریاست کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مذاکرات حزب اللہ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور ان کے نتائج کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔

انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ براہِ راست مذاکرات دراصل دشمن کی شرائط کو قبول کرنے اور اس کے مقاصد کو پورا کرنے کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنانی حکام کو چاہیے کہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو قومی مفادات کے خلاف ہوں۔

حسن عزالدین نے کہا کہ اگر حکومت براہِ راست مذاکرات کے راستے سے ہٹ جائے تو ملک کے اندر مختلف فریقوں کے درمیان بہتر مفاہمت پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی کے بعد سب سے اہم سوال جنوبی لبنان سے قابض افواج کے انخلا اور بے گھر افراد کی واپسی کا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ برقرار ہے، جنگ بندی کے حقیقی نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق حزب اللہ ہر اس فریق کا خیرمقدم کرتی ہے جو لبنان کو بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرے۔

دوسری جانب ایک لبنانی سرکاری ذریعے کے مطابق لبنان اور صہیونی ریاست کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور یکم جولائی سے واشنگٹن میں شروع ہونے والا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دور میں فوجی ماہرین بھی لبنانی وفد کا حصہ ہوں گے اور بعض سرحدی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔

حزب اللہ نے اپنے سابقہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک کسی نئے سکیورٹی انتظام یا اپنے ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوگی جب تک لبنانی سرزمین سے مکمل انخلا، جنگ بندی کی عملی ضمانتیں اور تمام لبنانی قیدیوں کی رہائی یقینی نہ بنائی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha